اک یاسِ مزمن مستقل میں زندگی جو ہو بسر
اک یاسِ مزمن مستقل میں زندگی جو ہو بسر
اور سوچ کو جذبات کی بالکل نہ ہو کوئی خبر
تو خاک تم نے زندگی کا ذائقہ ہوگا چکھا
جب حال و دل حیرت میں ہوں اک دوسرے کے حال پر
کس طرح تم سے نمو ہو بس پختگی اک سوچ کی
جب سوچ کا الفاظ تک آنا ہو بالکل بےصبر
جو بات بھی تم نے کہی جو بات بھی ہو گی سنی
مجھ تک نہ وہ ہی آسکی جو رہ گئی ہو گی ادھر
یہ کیا کہ سب کھولا کریں ہم دوسروں کے سامنے
جو بات اپنے گھر کی ہے وہ تو رہے اپنے ہی گھر
یہ مسئلہ ہر گز نہیں ساتھی کہ ہم کس کے رہیں
مر جائیں ہم کس کے بِنا زندہ جو ہم جیتے ہوں گر
بس کر سفرؔ اب روک لے اپنا سفر کر مختصر
یہ راستے ہیں گھومتے اور تو رہا ہے در بدر
سفرؔ
اور سوچ کو جذبات کی بالکل نہ ہو کوئی خبر
تو خاک تم نے زندگی کا ذائقہ ہوگا چکھا
جب حال و دل حیرت میں ہوں اک دوسرے کے حال پر
کس طرح تم سے نمو ہو بس پختگی اک سوچ کی
جب سوچ کا الفاظ تک آنا ہو بالکل بےصبر
جو بات بھی تم نے کہی جو بات بھی ہو گی سنی
مجھ تک نہ وہ ہی آسکی جو رہ گئی ہو گی ادھر
یہ کیا کہ سب کھولا کریں ہم دوسروں کے سامنے
جو بات اپنے گھر کی ہے وہ تو رہے اپنے ہی گھر
یہ مسئلہ ہر گز نہیں ساتھی کہ ہم کس کے رہیں
مر جائیں ہم کس کے بِنا زندہ جو ہم جیتے ہوں گر
بس کر سفرؔ اب روک لے اپنا سفر کر مختصر
یہ راستے ہیں گھومتے اور تو رہا ہے در بدر
سفرؔ
Comments
Post a Comment