سمجھ کی کمی ایک طرفہ نہیں ہے

میں کیسے کہوں وہ جو سوچا نہیں ہے
میں وہ سوچتا ہوں جو ہوتا کہیں ہے


وہ مانوں میں کیسے جو سمجھا نہیں ہے
سمجھنے کی کوشش حقیقت میں دیں ہے


پذیرائی میری یہ اک طور سے ہو
کہ میری صداقت پہ تم کو یقیں ہے


سمجھ ہی نہ آئی کبھی مجھ کو دنیا
سمجھ کی کمی ایک طرفہ نہیں ہے


بھلا ڈھونڈوں رب کو میں آخر کہاں پر؟
نظر پھیر کر دیکھوں وہ تو یہیں ہے


بھلے تاج و پگڑی سلامت رہیں سب
بلند ان سے بڑھ کر تمہاری جبیں ہے


سفرؔ پھینک دے اب تُو کاغذ قلم یہ
جہاں سے چلا تھا، تُو اب بھی وہیں ہے

Comments

Post a Comment