تو یک طرفہ یہ ناسمجھی نہیں ہے

کیا کروں بات جو سوچی نہیں ہے

کیا کروں بات جو سمجھی نہیں ہے

صرف اس طرح کیجے پزیرائی مری 

کہ مری حیثیت پہ آپکا یقیں ہے 

مری سمجھ میں نہیں آتی یہ دنیا

تو یک طرفہ یہ ناسمجھی نہیں ہے

کیا خدا کو ڈھونڈتا میں کہاں ہوں

جب کہ ہر وقت وہ یہیں کہیں ہے

دستار کو  بلند نہ کیجیئے  اپنی 

اس سے بلند تر تو آپ کی جبیں ہے

جس طرح میں کسرت نہ کرسکوں ہوں

اسی طرح میری عبادت بھی نہیں ہے 

دفع کر اس شاعری کو سفر ؔ اپنی 

کہ یہ کچھ کسی کام کی نہیں ہے


Comments

Popular posts from this blog

نئی ٹیکسی

ظرف سے زیادہ علم

کرونا تو بس ایک قدرتی آفت تھی