مگر یہ ناسمجھی، یکطرفہ نہیں ہے

​وہ بات میں کروں کیا، جو سوچی نہیں ہے

فقط اس لیے کہ، وہ لکھی کہیں ہے؟

بس ایک طور سے ہو، پذیرائی میری

کہ میری صداقت پہ، تمہیں اب یقیں ہے

سمجھ میں آ سکی نہ، کبھی مجھ کو دنیا

مگر یہ ناسمجھی، یکطرفہ نہیں ہے

خدا کو ڈھونڈتا ہے، تُو آخر کہاں پر؟

نِگاہیں پھیر کر دیکھ، وہ تو یہیں ہے

بھلے تاج و پگڑی، سلامت رہیں سب

بلند ان سے بڑھ کر، تمہاری جبیں ہے

 سفرؔ پھینک دے اب، تُو کاغذ قلم یہ

کہ تیری شاعری، کام کی اب نہیں ہے

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

کرونا تو بس ایک قدرتی آفت تھی

ظرف سے زیادہ علم

ارتقاء