ناسمجھی مگر ایک طرفہ نہیں ہے
بولوں میں کیا جو کہ سوچا نہیں ہے
سوچوں میں وہ جو کہ ہوتا نہیں ہے
سوچوں میں وہ جو کہ ہوتا نہیں ہے
مانوں میں کیسے جو سمجھا نہیں ہے
بس اس لیئے کوئی کہتا کہیں ہے
بس اک طور سے ہو پذیرائی میری
کہ میری صداقت پہ تم کو یقیں ہے
کہ میری صداقت پہ تم کو یقیں ہے
سمجھ آ سکی نہ کبھی مجھ کو دنیا
ناسمجھی مگر ایک طرفہ نہیں ہے
ناسمجھی مگر ایک طرفہ نہیں ہے
ڈھونڈوں خدا کو میں آخر کہاں پر؟
نظر پھیر کر دیکھوں وہ تو یہیں ہے
نظر پھیر کر دیکھوں وہ تو یہیں ہے
بھلے تاج و پگڑی سلامت رہیں سب
بلند ان سے بڑھ کر تمہاری جبیں ہے
بلند ان سے بڑھ کر تمہاری جبیں ہے
سفرؔ پھینک دے اب تُو کاغذ قلم یہ
تیری شاعری، کام کی کچھ نہیں ہے
تیری شاعری، کام کی کچھ نہیں ہے
This comment has been removed by the author.
ReplyDelete