Posts

Showing posts with the label Language and Literature - زبان و ادب

جب بھی کہ دنیا سے مری رخصت قرین ہو

جب بھی کہ دنیا سے مری رخصت قرین ہو
میرا ہو وقت تو جھکی میری جبین ہو


میری دعا ہے جو بھی عبادت نہیں ہوئی
مجھ کو بچانے والا ہی میرا یقین ہو


سجدے کریں اگر مری طینت کی تربیت
مائل مرا مزاج بہ خاکِ زمین ہو


میرے ہی ذہن میں ہو جو دنیا کے واسطے
میرے ہی قلب میں ہو جو تو اک مکین ہو


تم تو سفرؔ ذرا سا ارادہ کیا کرو
ک…

تھی عقل کی دنیا تو ہماری تھی لیاقت

تھی عقل کی دنیا تو ہماری تھی لیاقت
چھینی ہے مشینوں نے سو ہم سے یہ بھی طاقت
اب عشق بچا صرف ہے جھولی میں ہماری
بس کرنی اسی سے ہے ہمیں ساری مشقت

حسین کے سفر کا راستہ

(قافیہ بند آزاد منظومہ)
حسین کے مزاج کا معاملہ ہی اور ہے ان کے سفر کا راستہ بھی قابلِ غور ہے

یوں چلے کہ حرمتِ شہرِ نبی باقی رہے
پھر ایسے کہ عظمتِ دارِ وحی باقی رہے

روح

روح کیا ہے
بس ایک معمہ ہے
مگر روح کو میں اس طرح کیا سمجھا ہوں
بس خاک و ساخت سے ابھرتا ہوا ہے اک نقش
ذات و ذہن اور یاد سے بنتا ہوا ایک اعلی پیکر
اس طرح کہ میرے افعال ہی نہیں
میری ہر سوچ بھی اسکو متغیر کرتی ہے
اور صرف میری سوچ ہی نہیں اس طور سے کہ
تیرا ہر ایک طرح سے مجھ پر کبھی وارد ہونا
اس کی کچھ ہیئت کو تب…

سجدے کریں اگر مری طینت کی تربیت

سجدے کریں اگر مری طینت کی تربیت مائل مرا مزاج بہ خاکِ زمین ہو

پہلے یہ تھا
کرتے سجود جو مری طینت کی تربیتمیرا مزاج مائل بہ خاکِ زمیں ہوتا

سفر

کمیونیکیشن گیپ

جو کہا نہ میں نے
وہ تم نے کیسے سن لیا
اگر تو وہ سنا جو میں کہنا چاہ رہا تھا
تو بہت خوب، یہی تو چاہتا تھا
اور اگر وہ سنا، جو میں نے سوچا بھی نہ تھا
تو اس بات پر کیا مزاج خراب کریں
ہمیں ڈھونڈنا ہے بس
کہ ان دونوں میں فرق کیسے کرسکیں

سفر

دل جل رہا ہو اور دھواں دے رہا ہو گر

دل جل رہا ہو اور دھواں دے رہا ہو گر
اس کو ہوا تو دیں، جلیں، کریں روشنی

سفرؔ

بے خرد حسنِ ظن کے ساتھ جب جیا گیا

بے خرد حسنِ ظن کے ساتھ جب جیا گیا
مستدل حقیقتوں کے حزن سے بچا گیا

سفر

لوٹوں اسی پہ جہاں صرف وہی ہی (ﷻ) بے نیاز ہے

جتنا بھی چاہوں بے غرض میں خود کو جو سمجھوں
لوٹوں اسی پہ کہ وہی(ﷻ) ہی بےنیاز ہے


سفر

اپنی کجی کو حاکموں میں ڈھونڈنے والے

اپنی کجی کو حاکموں میں ڈھونڈنے والے
تھوڑا کریں جو غور تو خود ہی ہیں ذمہ دار
اپنے ہیں مسائل تو یہ اپنے ہی رہیں گے
اپنے ہی شانوں پہ تو اٹھانے ہیں اپنے بارسفرؔ

کیا عید ہے پھر کیا مبارکباد ہے امسال

کیا عید ہے پھر کیا مبارکباد ہے امسال
کس چیز میں شرکت کی دعا دے رہے ہیں لوگ
کھا گئے روزہ کہیں یا عید کی نماز
تکرار میں برکت کی دعا دے رہے ہیں لوگ
عالم کے غموں سے جو میں صرفِ نظر کروں
اس بات کی قدرت کی دعا دے رہے ہیں لوگ
اک دن شہر میں اپنے ہے جو اب کے بار عید
دوری میں قرابت کی دعا دے رہے ہیں لوگ
ہر شخص کی د…

اک یاسِ مزمن مستقل میں زندگی جو ہو بسر

اک یاسِ مزمن مستقل میں زندگی جو ہو بسر
اور سوچ کو جذبات کی بالکل نہ ہو کوئی خبر


تو خاک تم نے زندگی کا ذائقہ ہوگا چکھا
جب حال و دل حیرت میں ہوں اک دوسرے کے حال پر


کس طرح تم سے نمو ہو بس پختگی اک سوچ کی
جب سوچ کا الفاظ تک آنا ہو بالکل بےصبر


جو بات بھی تم نے کہی جو بات بھی ہو گی سنی
مجھ تک نہ وہ ہی آسکی جو ر…

وہ اشعار جن کا ایک مصرعہ ضرب المثل کی حد تک مشہور ہوا جبکہ دوسرا وقت کی دھول میں کہیں کھو گیا

وہ اشعار جن کا ایک مصرعہ ضرب المثل کی حد تک مشہور ہوا جبکہ دوسرا وقت کی دھول میں کہیں کھو گیا

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
(مصطفیٰ خان شیفتہ)


گلہ کیسا حسینوں سے بھلا نازک ادائی کا
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے
(سرور عالم راز سرور)


داورِ حشر میرا نا…

سمجھ کی کمی ایک طرفہ نہیں ہے

میں کیسے کہوں وہ جو سوچا نہیں ہے
میں وہ سوچتا ہوں جو ہوتا کہیں ہے


وہ مانوں میں کیسے جو سمجھا نہیں ہے
سمجھنے کی کوشش حقیقت میں دیں ہے


پذیرائی میری یہ اک طور سے ہو
کہ میری صداقت پہ تم کو یقیں ہے


سمجھ ہی نہ آئی کبھی مجھ کو دنیا
سمجھ کی کمی ایک طرفہ نہیں ہے


بھلا ڈھونڈوں رب کو میں آخر کہاں پر؟
نظر پھیر کر دیکھوں…

دنیا سے تعلق کی بس اتنی ہی قدر ہو

(پرانی بات مگر اس دفعہ منظوم)

دنیا سے تعلق کی بس اتنی ہی قدر ہو
ملنا ملک الموت سے رستے میں اگر ہو
گر آگیا ہو وقت مرا وہ کہے، چلو
اوزار اپنے خاک پہ رکھ کے کہوں، چلو

سفر ؔ

پارسا خود کو اتنا پھر سمجھتے ہو

جو عمومی ہے بس اس سے ہی بچتے ہو
پارسا خود کو اتنا پھر سمجھتے ہو

سفر

۳ شعبان

آج یہاں آمدِ شبیر ہوئی ہے
پیدا اک شخصیت عالم گیر ہوئی ہے
کامل پنچتن کی تصویر ہوئی ہے
جو تیغ تھی اب وہ اک شمشیر ہوئی ہے

اک نور کی آمد ہے اک نورانی ہی گھر میں
دکھتا ہے یہاں ، ہے مگرعالمِ دگر میں

-سفر

پیرویِ رہنما میں رہنما کے ساتھ چل

پیرویِ رہنما میں رہنما کے ساتھ چل
صحرا میں ہی دیر تک تو راستہ ہوتا نہیں

جب خدا نے بھی لیا پیغامبر کا واسطہ
تو دعا کا بھی سفر بے واسطہ ہوتا نہیں

کیا ہمارا مرتبہ ذکرِ نبی اونچا کریں
کام رب کا خلق سے آراستہ ہوتا نہیں
(ورفعنا لک ذکرک)

جو منعم اور مفلسوں کو ہی نہیں کرتا قریب
وہ ذریعہ سمجھو سچّا واسطہ ہوتا نہیں

ک…

فاعلاتن فاعلاتن فاعلات

ٹھوک اِس جانب ادھر سے مار لات
فاعلاتن فاعلاتن فاعلات

جب میں سوچوں، رُک کے بولوں، اقتباس
تب ہی جا کے سمجھے کوئی میری بات

اب تلک تو رکھا سب کو ایک جان
جب بٹے ہیں تو اہم ہے ذات پات

اِس طرح مت راہ میں نکلیں جناب
جال بچھے چار جانب اور ہے گھات

بچ کے نکلو تو ہی جانوں کامیاب
ورنہ ہو گی منہ کی کھانی جیسی مات

اب سفر ؔ…

انا کو اتنا بلند و بالا عظیم کرلو

ذرا سی چھوٹی سی شے سے اسکو لگے نہ صدمہ
انا کو اتنا بلند و بالا عظیم کرلو

یہ ہے وہ مٹی جو خاکِ پائے پدر ہوئی ہے
اسی کو اپنی ہی جائے سجدہ حریم کرلو

تمہیں جو مہلت عطا ہوئی ہے بوقتِ رخصت
اسی میں شکرِ عطائے ربِ کریم کرلو

جو اپنی جاں کی رگ ہائے شہ کو ہی جان پاو٘
تو صرف اتنا ہی ایسا خود کو فہیم کرلو

سفرؔ تمہاری ی…