Skip to main content

Posts

Showing posts from March, 2013

رکےنہیں سفر کیا

رکے نہیں سفر کیا
نہ جانے کس قدر کیا

کہاں کہاں نہیں گئے
اور راہ میں بسر کیا

با رضا کبھی کیا
کبھی بالجبر کیا

سب مخالفت سہی
برحق بے خطر کیا

ناسمجھ دوست نے
انجانے میں ضررکیا

باخبر ذرائع نے
سب کو بے خبر کیا

تھک گئےتنہائی سے
تو خود کو ہم سفر کیا

سفر ہی تم نے کیا کیا
جو خود کو ہم سفر کیا

سفرؔ یہ تم نے کیا کیا
کیوں اگر مگر کیا


سفر ۲۰۰۳

ڈاکو آنے چاہیئیں

میرے گھر کا چوکیدار
جس کو میں تنخواہ دیتا ہوں
مجھ سے کیسے بڑھ جاتا ہے
اور مجھ کو ہی وہ دھمکاتا ہے
جب بھی ڈاکو گھر میں آئیں
لڑنا اس کو پڑجاتاہے
لیکن جب ڈاکو نہ آئیں
مجھ سے کیسے بڑھ جاتاہے
اور مجھ کو ہی وہ دھمکاتا ہے
میرے گھر کا چوکیدار
جس کو میں تنخواہ دیتا ہوں

سفر
۱۹۹۷/۲/۷