حسین کے سفر کا راستہ
حسین کے مزاج کا معاملہ ہی اور ہے ان کے سفر کا راستہ بھی قابلِ غور ہے یوں چلے کہ حرمتِ شہرِ نبی باقی رہے پھر ایسے کہ عظمتِ دارِ وحی باقی رہے ایک منظر جو انہیں ہر طور نامنظور تھا وہ لعین بادشاہ کے ہاتھ پہ بیعت کا تھا جو بات وہ ہرگز نہیں کرتے کبھی یہ ہی قبول حق باطل پہ جھکے، یہ نہ تھا ان کا اصول کوفیوں نے خط لکھے، امام کو مدعو کیا جانبِ کوفہ چلے، کہ وہیں کا قصد تھا حق ہی امام کا نہیں، اک ذمہ داری تھی یہی رہ نمائی وہ کریں گر ہو جو ان کی پیروی امرِ خدا کی سب کو ہی تعلیم وہ دیتے رہیں بچنے کی بد سے بھی انہیں تلقین وہ کرتے رہیں کوفہ ساتھ ان کے نہیں، جب یہ حقیقت کھل گئی پھر تو ان کی راہ بالکل اور ہی جانب ہوگئی نہ تو واپس راستہ حر نے لینے ہی دیا آگے کا ہی تھا جو سفر نگاہ میں مرکوز تھا کربلا، کوفہ سے آگے کی جگہ ان کو ملی قدرِ خدا کے فیصلے میں رضا ان کی بھی تھی اشقیا کو بارہا ہر طور سمجھایا گیا امام نے کر ہی دیا اتمامِ حجّتِ خدا ابنِ سعد کے سامنے شہ نے رستے بھی رکھے تاکہ کسی بھی طور سے فوجِ لعین بچ سکے کہتے ہیں کہ مدینے کو لوٹنے کی بات تھی یا کسی حد کی طرف جو کہی...