روح
روح کیا ہے بس ایک معمہ ہے مگر روح کو میں اس طرح کیا سمجھا ہوں بس خاک و ساخت سے ابھرتا ہوا ہے اک نقش ذات و ذہن اور یاد سے بنتا ہوا ایک اعلی پیکر اس طرح کہ میرے افعال ہی نہیں میری ہر سوچ بھی اسکو متغیر کرتی ہے اور صرف میری سوچ ہی نہیں اس طور سے کہ تیرا کسی طرح سے مجھ پر کبھی وارد ہونا اس کی کچھ ہیئت کو تبدیل کرتا ہے اس کی سرحدیں کچھ ایسی ہیں کہ یہ تیری روح کا کچھ تھوڑا سا حصہ بھی ہے رفتہ رفتہ آگے بھی معدوم ہوتا ہوا کبھی نہ ختم ہونے والا تدرج* ہی ہے اس روح کی اک اساس ہی تو ہے جو میری ہے مگر اس کا پھیلاو ہر فرد تک جاتا ہے افراد پہ ہی بس یہ محدود نہیں یہ اس سے آگے بھی کہیں دور تک جاتا ہے جب ہی تو ایک شجر کے بھی گرنے پر مجھے ایک درد سا محسوس ہوتا ہے۔ سفر