Skip to main content

Posts

Showing posts from August, 2012

شترِ بے مہار

شتر بے مہار
مجھے ایک مشہورسماجی شخصیت (جن کا نام سلمان صاحب فرض کر لیتے ہیں) نے گلشنِ اقبال جیلانی اسٹیشن کے قریب سے ایک نئی چمچماتی کار میں پک کیا۔ باہر کی گرمی کے مقابلے میں اندرایئرکنڈیشنر نے کافی ٹھنڈک کی ہوئی تھی۔ ان کے ساتھ ایک اورمشہور اور سماجی سخصیت بھی تھیں (جن کا نام نازیہ صاحبہ فرض کیئے لیتے ہیں)۔ ہم لوگ کار میں معاشرے کی بہتری پر بات کرتے رہے۔

ایک چکر ملیر کے قریب سے لینے کے بعد پھر ہم پھر گلشن کی طرف واپس آگئے۔ گلشن کی ایک گلی میں سے موڑ کاٹتے ہوے ہمیں ایک گھر کے سامنےایک کافی مہنگی کار کھڑی نظر آئی جس کو دیکھتے ہی سلمان صاحب ایک کڑوے لہجے میں بولے کہ ایک یہ لوگ ہیں اور دوسرے معاشرے میں وہ لوگ ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں، نازیہ صاحبہ بھی اثبات میں  سر ہلانے لگیں۔ مجھے اس بات پر تھوڑا غصّہ آگیا، میں نے چنچناتے ہوئے، جو کہ میری عادت ہے، کہا کہ آپ خود عوام میں سے نہیں ہیں، آپ لوگ بھی معاشرے کے اسی طبقہ میں سے ہیں جو کے مہنگی کاروں میں سفر کرتا ہے۔  یہ تو میں ہوں جو کہ دوسرے طبقے سے ہوں، اگر آپ کو   کبھی بسوں میں سفر کرنا پڑ جائے تب پتا چلے گا۔ اور یہ کہتے ہوئے میں …