یہ کیا تھا عہد ہم نے بھول جانا ہے اسے

یہ کیا تھا عہد ہم نے بھول جانا ہے اسے
اب پریشاں بیٹھے ہیں اس سوچ میں "کیسا تھا وہ"

تمثیل کیابتلائیں ہم آپ کو اس شخص کی
اور کیا کہیں بس یہ کہ خود جیسا تھا وہ

خرچ کرڈالا وطن میں سب نے اس غریب کو
آدمی جیسے نہیں تھا جیسے بس پیسا تھا وہ

ہیوسٹن
؁۲۰۰۲

Comments

Popular posts from this blog

بر بحر "گلس ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

نئی ٹیکسی

Putting Ideas in the public