کہ صحرا میں دیر تک راستہ نہیں ہوتا

بہت مشکل ہے جرأتِ مجنوں کو دہرانا
کہ صحرا میں دیر تک راستہ نہیں ہوتا

ہے پسند اک بات ہم کو دشتِ ویراں کی
کہ صحرا میں دیر تک راستہ نہیں ہوتا

پیرویٔ رہنما میں رہنما کے ساتھ چل
کہ صحرا میں دیر تک راستہ نہیں ہوتا

Comments

Popular posts from this blog

Putting Ideas in the public

بر بحر "گلس ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

نئی ٹیکسی