میں بھی رو سکتا ہوں

میں بھی رو سکتا ہوں
میں بھی شاعر ہوں

زندگی کی تڑپتی ہوئی حقیقتیں
سسکتے ہوۓ لمحات

میرے بھی کمزور سے دل پر
گہرے نشانات چھوڑ جاتے ہیں

اقوام کی، طبقات کی، افراد کی جنگیں
میری بھی روح کو تڑپاتی ہیں

تچھ پہ ہوتے ہوۓ پے درپہ یہ سنگین مظالم
میں اپنے آپ پر محسوس کرتا ہوں

میں بھی شاعر ہوں

پر میرا اس طرح رونا، ترے کسی کام کا نہیں
رونا اس وقت پہتر ہے، جب یہ سسکتے ہوۓ جزبات کو شعلہ بنادے

میری
تمہاری
یا کسی اور کی
ظلم کا ہاتھ جھٹکنے کی ہمت بڑھادے

رونا اس وقت بہتر ہے
جب نالۂ فریادِ فغاں ظالم کو رک جانے پر مجبور کردے

مگر میرا یہ رونا
ہمیں اور رلاۓ گا
اور بس۔

Comments

Popular posts from this blog

Putting Ideas in the public

بر بحر "گلس ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

نئی ٹیکسی