رشتہ ما بین ہر دو مگر پائیدار ہے

ہر چند کہ شمس خلافِ  قمر دکھائی دے
رشتہ ما بین ہر دو مگر پائیدار ہے

جاۓ اماں میں کیا بنی نوعِ انساں ہوں
خوفزدہ ہتھیار سے یاں ہتھیار ہے

اس دور میں تری زبوں حالی کا سبب
تری قسمت نہیں، تیرا یہ کردار ہے

پاسِ حق تمہیں مہنگا نہ پڑے شوقؔ
ہر دور میں زبانِ حق سرِدار ہے

۱۳ مارچ ؁ ۱۹۹۷

Comments

Popular posts from this blog

Putting Ideas in the public

بر بحر "گلس ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

نئی ٹیکسی