کیوں کرتے ہیں آپ کنارا مجھ سے
چھپ گیا آنکھوں کا اشارا ہم سے
کیوں کرتے ہیں آپ کنارا ہم سے
دوری، نظروں کا گریز اور اجتناب
کیسے ہوگا یہ سب گوارا ہم سے
وہ قافلوں کا جو راہنما ٹھہرے
پہچانا جائے گا ستارا ہم سے
جب بھی عارضِ محبوب کی شفق دیکھی
باغی ہو گیا دل ہمارا ہم سے
اب یہ سارا جہان عالمِ عسرت ہے
آپ کو کرنا ہے گزارا ہم سے
سوچا ہی تھا، پھر آپ ہمارے ٹھہرے
آپ نے بدلا خوب اتارا ہم سے
یادِ زلفِ یار میں غافل ہیں یوں
شوقؔ ہمیں ہے کتنا پیارا ہم سے
اکتوبر ۲۰۲۶
یہ دوری یہ گریزِ نظر یہ اجتناب
کیوں کرتے ہیں آپ کنارا ہم سے
وہ قافلوں کا جو راہنما ٹہرے
پہچانا جائے گا وہ ستارا ہم سے
جب بھی عارضِ محبوب کی شفق دیکھی
باغی ہو گیا دل ہمارا ہم سے
اب یہ جہان عالمِ عسرت ہے
کرنا ہوگا تمہیں گزارا ہم سے
ہمارے سوچتے ہی ہمارے ہوگئے ہو
بدلہ کیا تم نے اتارا ہم سے
غافل یادِ زلفِ یار میں ہوئے ہیں
شوق ہمیں ہے یہ پیارا ہم سے
غافل یادِ زلفِ یار میں ہوئے ہیں
شوقؔ ہمیں ہے وہ پیارا ہم سے
۷ جولائی ۱۹۹۶
Comments
Post a Comment