کیوں کرتے ہیں آپ کنارا مجھ سے

یہ دوری یہ گریزِ نظر یہ اجتناب
کیوں کرتے ہیں آپ کنارا مجھ سے

وہ قافلوں کا جو راہنما ٹہرے
پہچانا جائے گا ستارا ہم سے

جب بھی عارضِ محبوب کی شفق دیکھی
باغی ہو گیا دل ہمارا ہم سے

اب یہ جہان عالمِ عسرت ہے
کرنا ہوگا تمہیں گزارا ہم سے

ہمارے سوچتے ہی ہمارے ہوگئے ہو
یہ بدلہ کیا تم نے اتارا ہم سے

غافل یادِ زلفِ یار میں ہوئے ہیں
شوق ہمیں ہے یہ پیارا ہم سے

غافل یادِ زلفِ یار میں ہوئے ہیں
شوقؔ ہمیں ہے وہ پیارا ہم سے

۷ جولائی ۱۹۹۶؁

Comments

Popular posts from this blog

Putting Ideas in the public

بر بحر "گلس ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

نئی ٹیکسی