Sunday, 2 February 2014

رشتہ ما بین ہر دو مگر پائیدار ہے

ہر چند کہ شمس خلافِ  قمر دکھائی دے
رشتہ ما بین ہر دو مگر پائیدار ہے

جاۓ اماں میں کیا بنی نوعِ انساں ہوں
خوفزدہ ہتھیار سے یاں ہتھیار ہے

اس دور میں تری زبوں حالی کا سبب
تری قسمت نہیں، تیرا یہ کردار ہے

پاسِ حق تمہیں مہنگا نہ پڑے شوقؔ
ہر دور میں زبانِ حق سرِدار ہے

۱۳ مارچ ؁ ۱۹۹۷

No comments:

Post a Comment