Sunday, 2 February 2014

یہ کیا تھا عہد ہم نے بھول جانا ہے اسے

یہ کیا تھا عہد ہم نے بھول جانا ہے اسے
اب پریشاں بیٹھے ہیں اس سوچ میں "کیسا تھا وہ"

تمثیل کیابتلائیں ہم آپ کو اس شخص کی
اور کیا کہیں بس یہ کہ خود جیسا تھا وہ

خرچ کرڈالا وطن میں سب نے اس غریب کو
آدمی جیسے نہیں تھا جیسے بس پیسا تھا وہ

ہیوسٹن
؁۲۰۰۲

No comments:

Post a Comment