Sunday, 2 February 2014

یار ذرا آہستہ

وقت کہتا ہے مجھ سے یار ذرا آہستہ
اپنی امیدوں کے بل پر
کس قدر
بادِ تیز کی مانند دوڑتے ہو
زمانے بھر کو چھوڑتے ہو
وقت کہتا ہے مجھ سے !

میں کہ
خوابوں کے بغیر حقیقتوں کا متلاشی
یہ چاہتا ہوں کہ
وقت سے کہوں
یار ذرا آہستہ

۱ جولایٔ
۱۹۹۶

No comments:

Post a Comment