Skip to main content

حمدِ خدا از امام علیؑ



ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی مدحت تک بولنے والوں کے تکلم کی رسائی نہیں ہے اور اس کی نعمتوں کو گننے والے شمار نہیں کرسکتے ہیں۔ اس کے حق کو کوشش کرنے والے بھی ادا نہیں کرسکتے ہیں۔ نہ ہمتوں کی بلندیاں اس کا ادراک کرسکتی ہیں اور نہ ذہانتوں کی گہراِئیاں اس کی تہہ تک جاسکتی ہیں۔ اس کی صفتِ ذات کے لئے نہ کوئی حد معین ہے نہ توصیفی کلمات۔ نہ مقررہ وقت ہے نہ آخری مدت۔ اس نے تمام مخلوقات کو صرف اپنی قدرتِ کاملہ سے پیدا کیا ہے اور پھر اپنی رحمت ہی سے ہوائیں چلائیں ہیں اور زمین کی حرکت کو پہاڑوں کی میخوں سے سنبھال کر رکھا ہے۔

دین کی ابتدا اس کی معرفت ہے اور معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے۔ تصدیق کا کمال توحید کا اقرار ہے اور توحید کا کمال اخلاصِ عقیدہ ہے اور اخلاص کا کمال زائد بر ذات صفات کی نفی ہے، کہ صفت کا مفہوم خود ہی گواہ ہے کہ وہ موصوف سے الگ کوئی شے ہے اور موصوف کا مفہوم ہی یہ ہے کہ وہ صفت سے جداگانہ کوئی ذات ہے۔ اس کے لئے الگ سے صفات کا اثبات ایک شریک کا اثبات ہے اور اس کا لازمی نتیجہ ذات کا تعدد ہے اور تعدد کا مقصد اس کے لئے اجزاء کا عقیدہ ہے اور اجزاء کا عقیدہ صرف جہالت ہے معرفت نہیں اور جو بے معرفت ہو گیا اس نے اشارہ کرنا شروع کردیا اس جس نے اس کی طرف اشارہ کیا اس نے اسے ایک سمت میں محدود کردیا اور جس نے محدود کردیا اس نے اسے گنتی میں شمار کرلیا۔

جس نے یہ سوال اٹھایا کہ وہ کس چیز میں ہے اس نے اسے کسی کے ضمن میں قرار دے دیا اور جس نے یہ کہا کہ وہ کس کے اوپر قائم ہے اس نے نیچے کاعلاقہ خالی کرالیا۔ اس کے ہستی حادث نہیں ہے اوراس کا وجود عدم کی تارکیوں سے نہیں نکلا ہے۔ وہ ہر شے کے ساتھ ہے مگر مل کر نہیں ، اور ہر شے سے الگ ہے لیکن جدائی کی بنیاد پر نہیں۔ وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کے ذریعہ نہیں اور وہ اس وقت بھی بصیر تھا جب دیکھی جانے والی مخلوق کا پتہ نہیں تھا ۔ وہ اپنی ذات میں بلکل اکیلا ہے اور اس کا کوئی ایسا ساتھی نہیں ہے جس کو پا کر انس محسوس کرے اور کھو کر پریشان ہوجانے کا احساس کرے۔ 


نہجہ البلاغہ - خطباتِ امام علیؑ - خطبہ ؀ا سے اقتباس - ترجمہ از علامہ ذیشان حیدر جوادی

Comments

Popular posts from this blog

بر بحر "گلس ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

ماہِ صیام آنکھ کھولی ہے بہار نے
مولا کو جانشین دیا کردگار نے

خوش ہیں علی و مسکرا رہی ہیں فاطمہ
"گل ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

عظمتِ نبی بھی ہیں، شبیہِ رسول بھی
تحفہ دیا ہے سیدہ پروردگار نے

کیا ہے بارگاہ میں سرخم دست بند
حکمت و حلم اورعظمت و کردار نے

 جنگِ صفین میں امام کے لپکنے پر
روکا انہیں نبی کی نسبت سے کرار نے

پیشِ نظر تحفظِ دینِ رسول تھا
کرلی قلم کی پیروی، جبھی تلوار نے

ڈوبتے نے جو لیا نامِ علی مشکل میں
مارے کنارے کے لیئے، ہاتھ منجدھار نے

دورانِ امن ضبط دکھایا جو حسن نے
اور ضبط دکھایا جنگ میں علمدار نے

قلم کی اس ہمت پر سفرؔ کی معافی مولا
بڑی کی ہے یہ جرات، اس خاکسار نے

نئی ٹیکسی

ابا کا ایک دوست ہے، مقصود۔ ہماری ہی گلی میں ہی رہتا ہے-  اسکے پاس ایک پرانی سوزوکی ٹیکسی ہے ۔ ابا ویسے تو  بس میں آتا جاتا ہے مگر جب کبھی اماں یا ہم کو کہیں لے کے جانا ہو تو مقصود کو ہی کہتا ہے کہ لے چل۔ چونکہ مقصود ابا کا دوست بھی ہے اور اسکے ساتھ تاش بھی کھیلتا ہے، اس لیئے ابا کو کرایہ میں کچھ رعایت دے دیتا ہے۔
مجھے مقصود بالکل بھی اچھا نہیں لگتا، گھور گھور کر دیکھتا رہتا ہے، جب ابا سامنے نہ ہو تو کہتا ہے مجھ سے شادی کرے گا، ویسے تو ابا اس معاملے میں کافی ٹھیک ہے مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں مقصود ابا کو پٹا ہی نہ لے۔ 
 ایک دفعہ میں اسکول سے گھر آرہی تھی کہ دو اوباش لڑکوں نے مجھے دیکھ کر پہلے تو آوازے کسنا شروع کیئے مگر پھر میرا پیچھا شروع کردیا ۔ میں تیز تیز قدموں سے جلدی گھر آجانے کی دعا کرتی تقریبا بھاگنا شروع ہوگئی کہ مجھے مقصود   کی ٹیکسی نظر آگئی۔ وہ سڑک کے کنارے ٹیکسی کھڑی کرکے سواری مل جانے کا انتظار کررہا تھا۔ میں نے آو دیکھا نہ تاو اور جلدی سے دروازہ کھول کر اسکی ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور مقصود سے کہا کہ دو لڑکے میرا پیچھا کررہے ہیں تو مجھے گھرپر اتاردو۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا پ…

Putting Ideas in the public

I have a gift (or a curse); I can think on many different fronts at the same time, often too many.

One of those fronts is technical / business ideas. There is a ever growing list of ideas that come to my mind. And I want to make use of each of those.

However realizing that I have been not so productive with these ideas. I spend too much time in generating and enhancing these Ideas and contemplating on them and do not focus enough to get through with them to convert them into value. And I know Ideas do not have any value unless they get used.

Lately I have been thinking about this and I thought instead of keeping the ideas to myself in hope that I will get time and focus to implement them why don't I put those Ideas on the web to the public.

This got me thinking....

However, some part of me does not want to let go of the ideas, I see business potentials in many of the these ideas and being a normal person, I wish I could get some benefit out of it. However, I know that stinginess …