Tuesday, 30 July 2013

حمدِ خدا از امام علیؑ



ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی مدحت تک بولنے والوں کے تکلم کی رسائی نہیں ہے اور اس کی نعمتوں کو گننے والے شمار نہیں کرسکتے ہیں۔ اس کے حق کو کوشش کرنے والے بھی ادا نہیں کرسکتے ہیں۔ نہ ہمتوں کی بلندیاں اس کا ادراک کرسکتی ہیں اور نہ ذہانتوں کی گہراِئیاں اس کی تہہ تک جاسکتی ہیں۔ اس کی صفتِ ذات کے لئے نہ کوئی حد معین ہے نہ توصیفی کلمات۔ نہ مقررہ وقت ہے نہ آخری مدت۔ اس نے تمام مخلوقات کو صرف اپنی قدرتِ کاملہ سے پیدا کیا ہے اور پھر اپنی رحمت ہی سے ہوائیں چلائیں ہیں اور زمین کی حرکت کو پہاڑوں کی میخوں سے سنبھال کر رکھا ہے۔

دین کی ابتدا اس کی معرفت ہے اور معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے۔ تصدیق کا کمال توحید کا اقرار ہے اور توحید کا کمال اخلاصِ عقیدہ ہے اور اخلاص کا کمال زائد بر ذات صفات کی نفی ہے، کہ صفت کا مفہوم خود ہی گواہ ہے کہ وہ موصوف سے الگ کوئی شے ہے اور موصوف کا مفہوم ہی یہ ہے کہ وہ صفت سے جداگانہ کوئی ذات ہے۔ اس کے لئے الگ سے صفات کا اثبات ایک شریک کا اثبات ہے اور اس کا لازمی نتیجہ ذات کا تعدد ہے اور تعدد کا مقصد اس کے لئے اجزاء کا عقیدہ ہے اور اجزاء کا عقیدہ صرف جہالت ہے معرفت نہیں اور جو بے معرفت ہو گیا اس نے اشارہ کرنا شروع کردیا اس جس نے اس کی طرف اشارہ کیا اس نے اسے ایک سمت میں محدود کردیا اور جس نے محدود کردیا اس نے اسے گنتی میں شمار کرلیا۔

جس نے یہ سوال اٹھایا کہ وہ کس چیز میں ہے اس نے اسے کسی کے ضمن میں قرار دے دیا اور جس نے یہ کہا کہ وہ کس کے اوپر قائم ہے اس نے نیچے کاعلاقہ خالی کرالیا۔ اس کے ہستی حادث نہیں ہے اوراس کا وجود عدم کی تارکیوں سے نہیں نکلا ہے۔ وہ ہر شے کے ساتھ ہے مگر مل کر نہیں ، اور ہر شے سے الگ ہے لیکن جدائی کی بنیاد پر نہیں۔ وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کے ذریعہ نہیں اور وہ اس وقت بھی بصیر تھا جب دیکھی جانے والی مخلوق کا پتہ نہیں تھا ۔ وہ اپنی ذات میں بلکل اکیلا ہے اور اس کا کوئی ایسا ساتھی نہیں ہے جس کو پا کر انس محسوس کرے اور کھو کر پریشان ہوجانے کا احساس کرے۔ 


نہجہ البلاغہ - خطباتِ امام علیؑ - خطبہ ؀ا سے اقتباس - ترجمہ از علامہ ذیشان حیدر جوادی

No comments:

Post a Comment