Skip to main content

کرونا توبس ایک قدرتی آفت تھی

کرونا تو بس ایک قدرتی آفت تھی
 کہ وہ
غریب و امیر خادم و مخدوم  حاکم و محکوم  سب کو
ایک نظر سے ایک نگاہ سے ایک ہی طرز سے
گھیرے میں لے رہا تھا
مگر وہ تو قدرتی آفت تھی
یہ جو انسانوں نے خود اس کے مقابلے پر احکامات جاری کردیئے ہیں
یہ امیر و غریب میں فرق کرتے ہیں
اگر بظاہر نہیں کرتے توآثار میں ضرور کرتے ہیں
کہ معاشی عدم استحکامی
امیر کی دولت میں  صرف کمی کرسکتی ہے
بلکہ شاید صرف یہ کہ اسکی امارت کو بڑھنے سے روکتی ہے
اور کچھ امراء نے تو اس وبا میں اور دولت جمع کرنے کے مواقع ڈھونڈ نکالے ہیں
جو تھوڑے کم امیر ہیں انکی تو صرف
سیر و سیاحت، کھانے اور کھلانے پر ایک قدغن لگی ہے
یہ تو صرف غریب ہے کہ جس کو معاشی بدحالی کا سامنا ہے
کرونا سے بھی مرنا تھا،اسے اب بھوک سے بھی مر نا ہے
وہ سفید پوش جو اپنا بھرم رکھنے کی خاطر
اپنے گھروں کے حالات کو
کسی نہ کسی طرح دوسروں کی نگاہوں سے زبانوں سے محفوظ رکھے ہوئے تھے
چادر کے مختلف کونوں کو باری باری کھینچ کر اپنی 
عزت کو ڈھانپنے  کی کوشش کررہے تھے
مگر وہ اب
یا تو سر جھکائے اپنی سفید پوشی پر ہاتھ پھیلا کر داغ قبول کررہے ہیں
یا وہ اب بس خامشی سے قدرتی آفت سے مرنے کی دعا کررہے ہونگے

سفرؔ

۲۲-۵-۲۰۲۰

Comments

Popular posts from this blog

بر بحر "گلس ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

ماہِ صیام آنکھ کھولی ہے بہار نے
مولا کو جانشین دیا کردگار نے

خوش ہیں علی و مسکرا رہی ہیں فاطمہ
"گل ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

عظمتِ نبی بھی ہیں، شبیہِ رسول بھی
تحفہ دیا ہے سیدہ پروردگار نے

کیا ہے بارگاہ میں سرخم دست بند
حکمت و حلم اورعظمت و کردار نے

 جنگِ صفین میں امام کے لپکنے پر
روکا انہیں نبی کی نسبت سے کرار نے

پیشِ نظر تحفظِ دینِ رسول تھا
کرلی قلم کی پیروی، جبھی تلوار نے

ڈوبتے نے جو لیا نامِ علی مشکل میں
مارے کنارے کے لیئے، ہاتھ منجدھار نے

دورانِ امن ضبط دکھایا جو حسن نے
اور ضبط دکھایا جنگ میں علمدار نے

قلم کی اس ہمت پر سفرؔ کی معافی مولا
بڑی کی ہے یہ جرات، اس خاکسار نے

نئی ٹیکسی

ابا کا ایک دوست ہے، مقصود۔ ہماری ہی گلی میں ہی رہتا ہے-  اسکے پاس ایک پرانی سوزوکی ٹیکسی ہے ۔ ابا ویسے تو  بس میں آتا جاتا ہے مگر جب کبھی اماں یا ہم کو کہیں لے کے جانا ہو تو مقصود کو ہی کہتا ہے کہ لے چل۔ چونکہ مقصود ابا کا دوست بھی ہے اور اسکے ساتھ تاش بھی کھیلتا ہے، اس لیئے ابا کو کرایہ میں کچھ رعایت دے دیتا ہے۔
مجھے مقصود بالکل بھی اچھا نہیں لگتا، گھور گھور کر دیکھتا رہتا ہے، جب ابا سامنے نہ ہو تو کہتا ہے مجھ سے شادی کرے گا، ویسے تو ابا اس معاملے میں کافی ٹھیک ہے مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں مقصود ابا کو پٹا ہی نہ لے۔ 
 ایک دفعہ میں اسکول سے گھر آرہی تھی کہ دو اوباش لڑکوں نے مجھے دیکھ کر پہلے تو آوازے کسنا شروع کیئے مگر پھر میرا پیچھا شروع کردیا ۔ میں تیز تیز قدموں سے جلدی گھر آجانے کی دعا کرتی تقریبا بھاگنا شروع ہوگئی کہ مجھے مقصود   کی ٹیکسی نظر آگئی۔ وہ سڑک کے کنارے ٹیکسی کھڑی کرکے سواری مل جانے کا انتظار کررہا تھا۔ میں نے آو دیکھا نہ تاو اور جلدی سے دروازہ کھول کر اسکی ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور مقصود سے کہا کہ دو لڑکے میرا پیچھا کررہے ہیں تو مجھے گھرپر اتاردو۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا پ…

Putting Ideas in the public

I have a gift (or a curse); I can think on many different fronts at the same time, often too many.

One of those fronts is technical / business ideas. There is a ever growing list of ideas that come to my mind. And I want to make use of each of those.

However realizing that I have been not so productive with these ideas. I spend too much time in generating and enhancing these Ideas and contemplating on them and do not focus enough to get through with them to convert them into value. And I know Ideas do not have any value unless they get used.

Lately I have been thinking about this and I thought instead of keeping the ideas to myself in hope that I will get time and focus to implement them why don't I put those Ideas on the web to the public.

This got me thinking....

However, some part of me does not want to let go of the ideas, I see business potentials in many of the these ideas and being a normal person, I wish I could get some benefit out of it. However, I know that stinginess …