بر بحر "گلس ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

ماہِ صیام آنکھ کھولی ہے بہار نے
مولا کو جانشین دیا کردگار نے

فاطمہ ہیں خوش علی مسکرا رہے
"گل ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

ہیں عظمتِ نبی شبیہِ رسول بھی
تحفہ دیا ہے سیدہ پروردگار نے

کیا ہے بارگاہ میں سرخم دست بند
حکمت اور حلم اور کردار نے
صفین کی جنگ میں لپکنے پہ حسن کے
روکا بنسبتِ رسول کرار نے

پیشِ نظر تحفظِ دینِ رسول تھا
قلم کی پیروی جو کی تلوار نے

نامِ علی جو کیا لیا ڈوبتے نے
مشکل سے ہاتھ مارے پھر منجدھار نے
امن میں جو کہ ضبطِ حسن ہو گیا رواں
ضبط کیا جنگ میں علمدار نے
اس پہ ہو معافی سفرؔ کے قلم کی
کی ہے بڑی جرات اس خاکسار نے

Comments

Popular posts from this blog

Putting Ideas in the public

نئی ٹیکسی