Skip to main content

برداشت تم نہیں کرنا



برداشت تم نہیں کرنا
برداشت تم نہیں کرنا
کوئی گولی کہیں سے گر
آکر جب تمھارے گھر
میں کسی کو لگ جائے
جان لے ، ارمان لے
برداشت تم نہیں کرنا
کوئی بم کا دھماکہ
کسی ٹائمر سے ہو
یا کسی انسان کے
 سینے سے بندھا ہو وہ
برداشت تم نہیں کرنا
سازشی سیاسی ہوں
مکار کاروباری ہوں
دولت مند وڈیرے ہوں
یا گلی کے غنڈے ہوں
برداشت تم نہں کرنا
رینجر کا ڈنڈا ہو
کیپٹن کی گولی ہو
ڈرون ہو امریکہ کا
سر پہ جو تمھارے ہو
برداشت تم نہیں کرنا
ملّا ہوں جو پیسے کے
ڈالر کے روپیئے کے
یا ریال لیتے ہوں
چاہے وہ کہیں کے ہوں
برداشت تم نہیں کرنا
خبریں جو چلاتے ہیں
تبصرے بھی کرتے ہیں
گر تم سمجھتے ہو
نوٹنکی کے پرزے ہیں
برداشت تم نہیں کرنا
کاروبار میں دھوکہ ہو
ملازمت میں استحصال
کسی غنڈے کی بدمعاشی
پولس والے کی بدمعاشی
برداشت تم نہیں کرنا
چھوٹے بھی جو مسئلے ہیں
بجلی جو چلی جائے
سی این جی کی بندش ہو
پانی جو نہیں آئے
برداشت تم نہیں کرنا
ٹریفک میں ہو بدمعاشی
چاہے ہو وہ کم عقلی
خلاف ورزی اشارے کی
چاہے ہو سڑٰک ٹوٹی
برداشت تم نہیں کرنا
کیونکہ
کوئی جو مسائل ہوں
برداشت گر جو کرجانا
بچوں کے لیئے اپنے
چھوڑ پریشانی جانا
برداشت تم نہیں کرنا
ہاں مگر
پریشاں بھی نہیں ہونا
اگرچہ
مسائل ڈھیر سارے ہیں
پریشانی کا منبہ ہیں
کیسے ہی یہ ممکن ہو
برداشت بھی نہیں کرنا
پریشاں بھی نہیں ہونا
اگر
ایک مسئلہ کو بھی
کم ہم گر کرجائیں
دنیا کو جو بہتر ہم
کرسکیں تو کرجائیں
مگر
ہاں مگر کوئی مسئلہ
جو ہماری قدرت سے
باہر ہو تو بہتر ہے
صبر ہم کو کرنا ہے
ضرور تم صبر کرنا
پریشاں بھی نہیں ہونا
برداشت پر نہیں کرنا
کبھی قبول نہ کرنا
کبھی قبول نہ کرنا

سفؔر
۱۶ ستمبر ۲۰۱۳
۴ مئی ۲۰۱۶

Comments

Popular posts from this blog

بر بحر "گلس ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

ماہِ صیام آنکھ کھولی ہے بہار نے
مولا کو جانشین دیا کردگار نے

فاطمہ ہیں خوش علی مسکرا رہے
"گل ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

ہیں عظمتِ نبی شبیہِ رسول بھی
تحفہ دیا ہے سیدہ پروردگار نے

کیا ہے بارگاہ میں سرخم دست بند
حکمت اور حلم اور کردار نے
صفین کی جنگ میں لپکنے پہ حسن کے
روکا بنسبتِ رسول کرار نے

پیشِ نظر تحفظِ دینِ رسول تھا
قلم کی پیروی جو کی تلوار نے

نامِ علی جو کیا لیا ڈوبتے نے
مشکل سے ہاتھ مارے پھر منجدھار نے
امن میں جو کہ ضبطِ حسن ہو گیا رواں
ضبط کیا جنگ میں علمدار نے
اس پہ ہو معافی سفرؔ کے قلم کی
کی ہے بڑی جرات اس خاکسار نے

نئی ٹیکسی

ابا کا ایک دوست ہے، مقصود۔ ہماری ہی گلی میں ہی رہتا ہے-  اسکے پاس ایک پرانی سوزوکی ٹیکسی ہے ۔ ابا ویسے تو  بس میں آتا جاتا ہے مگر جب کبھی اماں یا ہم کو کہیں لے کے جانا ہو تو مقصود کو ہی کہتا ہے کہ لے چل۔ چونکہ مقصود ابا کا دوست بھی ہے اور اسکے ساتھ تاش بھی کھیلتا ہے، اس لیئے ابا کو کرایہ میں کچھ رعایت دے دیتا ہے۔
مجھے مقصود بالکل بھی اچھا نہیں لگتا، گھور گھور کر دیکھتا رہتا ہے، جب ابا سامنے نہ ہو تو کہتا ہے مجھ سے شادی کرے گا، ویسے تو ابا اس معاملے میں کافی ٹھیک ہے مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں مقصود ابا کو پٹا ہی نہ لے۔ 
 ایک دفعہ میں اسکول سے گھر آرہی تھی کہ دو اوباش لڑکوں نے مجھے دیکھ کر پہلے تو آوازے کسنا شروع کیئے مگر پھر میرا پیچھا شروع کردیا ۔ میں تیز تیز قدموں سے جلدی گھر آجانے کی دعا کرتی تقریبا بھاگنا شروع ہوگئی کہ مجھے مقصود   کی ٹیکسی نظر آگئی۔ وہ سڑک کے کنارے ٹیکسی کھڑی کرکے سواری مل جانے کا انتظار کررہا تھا۔ میں نے آو دیکھا نہ تاو اور جلدی سے دروازہ کھول کر اسکی ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور مقصود سے کہا کہ دو لڑکے میرا پیچھا کررہے ہیں تو مجھے گھرپر اتاردو۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا پ…

Putting Ideas in the public

I have a gift (or a curse); I can think on many different fronts at the same time, often too many.

One of those fronts is technical / business ideas. There is a ever growing list of ideas that come to my mind. And I want to make use of each of those.

However realizing that I have been not so productive with these ideas. I spend too much time in generating and enhancing these Ideas and contemplating on them and do not focus enough to get through with them to convert them into value. And I know Ideas do not have any value unless they get used.

Lately I have been thinking about this and I thought instead of keeping the ideas to myself in hope that I will get time and focus to implement them why don't I put those Ideas on the web to the public.

This got me thinking....

However, some part of me does not want to let go of the ideas, I see business potentials in many of the these ideas and being a normal person, I wish I could get some benefit out of it. However, I know that stinginess …