Skip to main content

شترِ بے مہار


شتر بے مہار
مجھے ایک مشہورسماجی شخصیت (جن کا نام سلمان صاحب فرض کر لیتے ہیں) نے گلشنِ اقبال جیلانی اسٹیشن کے قریب سے ایک نئی چمچماتی کار میں پک کیا۔ باہر کی گرمی کے مقابلے میں اندرایئرکنڈیشنر نے کافی ٹھنڈک کی ہوئی تھی۔ ان کے ساتھ ایک اورمشہور اور سماجی سخصیت بھی تھیں (جن کا نام نازیہ صاحبہ فرض کیئے لیتے ہیں)۔ ہم لوگ کار میں معاشرے کی بہتری پر بات کرتے رہے۔

ایک چکر ملیر کے قریب سے لینے کے بعد پھر ہم پھر گلشن کی طرف واپس آگئے۔ گلشن کی ایک گلی میں سے موڑ کاٹتے ہوے ہمیں ایک گھر کے سامنےایک کافی مہنگی کار کھڑی نظر آئی جس کو دیکھتے ہی سلمان صاحب ایک کڑوے لہجے میں بولے کہ ایک یہ لوگ ہیں اور دوسرے معاشرے میں وہ لوگ ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں، نازیہ صاحبہ بھی اثبات میں  سر ہلانے لگیں۔ مجھے اس بات پر تھوڑا غصّہ آگیا، میں نے چنچناتے ہوئے، جو کہ میری عادت ہے، کہا کہ آپ خود عوام میں سے نہیں ہیں، آپ لوگ بھی معاشرے کے اسی طبقہ میں سے ہیں جو کے مہنگی کاروں میں سفر کرتا ہے۔  یہ تو میں ہوں جو کہ دوسرے طبقے سے ہوں، اگر آپ کو   کبھی بسوں میں سفر کرنا پڑ جائے تب پتا چلے گا۔ اور یہ کہتے ہوئے میں نے چپس کی تھیلی میں ہاتھ ڈالا، ہم راستے میں چپس سےبھی مستفید ہو رہے تھے۔
  مجھے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوگیا جس پر میں نےاپنی تصحیح کرتے ہوئے اور لہجے کو نارمل کرتےہوئے کہا کہ شاید میں بھی اس طبقے میں سے نہیں ہوں۔ ہاں کبھی کبھار مجھے بس میں بیٹھنا پڑجاتا ہے مگر میں عمومی طور پر چھوٹی سہی اپنی کار میں سفر کرتا ہوں۔ سلمان صاحب اور نازیہ صاحبہ دونوں خاموش رہے۔
اتنی دیر میں ہم واپس اسی جگہ پہنچ گئے جہاں سے  سلمان صاحب نے مجھے بٹھایا تھا ، یہ سمجھتے ہوئے کہ میں وہیں کہیں رہتا ہوں سلمان صاحب نے کار آہستہ کی، میں نےان کی معلومات میں اضافہ کیا کہ میں تو ملیر میں رہتا ہوں، کیا بہتر ہوتا کہ میں وہیں اتر جاتا۔ سلمان صاحب کی مجھے ملیر تک لے جانے کی آفر کے باوجود میں وہیں اتر گیا۔ چپس کے تھیلی میرے ہاتھ میں ہی رہ گئی تھی۔
 مجھے سڑک کے دوسری طرف جانا تھا، مگر یونیورسٹی روڈ کے سگنل فری ہونے کے بعد سڑک کے درمیان میں گِرِلز لگ گئیں تھیں۔ تھوڑی دور اوور ہیڈ برج بنا تھا، مگر میں ایک کافی ٹھنڈی گاڑی سے اترنے کے بعد چلچلاتی دھوپ میں اس برج تک جانے اور واپس آنے کی لیئے تیار نھیں تھا۔ ایک جگہ سے ایک سلاخ کسی بھلے مانس نے نکالی ہوئی تھی، میں نے اسی جگہ سے گرل پھاندے کا ارادہ کیا۔ ٹریفک کافی تیز تھا اور اس میں وقفہ بھی نھیں آرہا تھا اور آتا بھی کیسے، سڑک پر کہیں سگنل ہوتے تب ہی تو ٹریفک میں وقفہ آتا۔
خیر اتنی دیر میں ٹریفک تھوڑا کم ہوا، صرف ایک گاڑی آرہی تھی جو کہ تیز ہونے کے باوجود نسبتاً آہستہ تھی اس کے پیچھے کئی گاڑیاں کافی تیز آرہی تھیں، میں نے اس گاڑی سے پہلے بھاگ کرتیزی سے سڑک پار کرنے کا ارادہ کیا، اور فوراً ہی فٹ پاتھ سے سڑک پر چھلانگ لگادی۔ مگر یہ کیا، یہ کمبخت فٹ پاتھ عمومی فٹ پاتھوں کے مقابلے میں کافی اونچا تھا،میرے پائوں لڑکھڑا گئے ، میں نے اپنے پائوں سنبھالنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں سکا اور  اس گاڑی کے سامنے ہی سڑک پر زمین بوس ہو گیا۔ اسکے بعد کیا ہوا یہ مجھے معلوم نہیں ہوسکا ہاں مگر مجھے اپنے ہاتھ میں چپس کی تھیلی کی موجودگی کا احساس تھا۔


Comments

Popular posts from this blog

بر بحر "گلس ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

ماہِ صیام آنکھ کھولی ہے بہار نے
مولا کو جانشین دیا کردگار نے

خوش ہیں علی و مسکرا رہی ہیں فاطمہ
"گل ہنس دیئے نقاب الٹ دی بہار نے"

عظمتِ نبی بھی ہیں، شبیہِ رسول بھی
تحفہ دیا ہے سیدہ پروردگار نے

کیا ہے بارگاہ میں سرخم دست بند
حکمت و حلم اورعظمت و کردار نے

 جنگِ صفین میں امام کے لپکنے پر
روکا انہیں نبی کی نسبت سے کرار نے

پیشِ نظر تحفظِ دینِ رسول تھا
کرلی قلم کی پیروی، جبھی تلوار نے

ڈوبتے نے جو لیا نامِ علی مشکل میں
مارے کنارے کے لیئے، ہاتھ منجدھار نے

دورانِ امن ضبط دکھایا جو حسن نے
اور ضبط دکھایا جنگ میں علمدار نے

قلم کی اس ہمت پر سفرؔ کی معافی مولا
بڑی کی ہے یہ جرات، اس خاکسار نے

نئی ٹیکسی

ابا کا ایک دوست ہے، مقصود۔ ہماری ہی گلی میں ہی رہتا ہے-  اسکے پاس ایک پرانی سوزوکی ٹیکسی ہے ۔ ابا ویسے تو  بس میں آتا جاتا ہے مگر جب کبھی اماں یا ہم کو کہیں لے کے جانا ہو تو مقصود کو ہی کہتا ہے کہ لے چل۔ چونکہ مقصود ابا کا دوست بھی ہے اور اسکے ساتھ تاش بھی کھیلتا ہے، اس لیئے ابا کو کرایہ میں کچھ رعایت دے دیتا ہے۔
مجھے مقصود بالکل بھی اچھا نہیں لگتا، گھور گھور کر دیکھتا رہتا ہے، جب ابا سامنے نہ ہو تو کہتا ہے مجھ سے شادی کرے گا، ویسے تو ابا اس معاملے میں کافی ٹھیک ہے مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں مقصود ابا کو پٹا ہی نہ لے۔ 
 ایک دفعہ میں اسکول سے گھر آرہی تھی کہ دو اوباش لڑکوں نے مجھے دیکھ کر پہلے تو آوازے کسنا شروع کیئے مگر پھر میرا پیچھا شروع کردیا ۔ میں تیز تیز قدموں سے جلدی گھر آجانے کی دعا کرتی تقریبا بھاگنا شروع ہوگئی کہ مجھے مقصود   کی ٹیکسی نظر آگئی۔ وہ سڑک کے کنارے ٹیکسی کھڑی کرکے سواری مل جانے کا انتظار کررہا تھا۔ میں نے آو دیکھا نہ تاو اور جلدی سے دروازہ کھول کر اسکی ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور مقصود سے کہا کہ دو لڑکے میرا پیچھا کررہے ہیں تو مجھے گھرپر اتاردو۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا پ…

Putting Ideas in the public

I have a gift (or a curse); I can think on many different fronts at the same time, often too many.

One of those fronts is technical / business ideas. There is a ever growing list of ideas that come to my mind. And I want to make use of each of those.

However realizing that I have been not so productive with these ideas. I spend too much time in generating and enhancing these Ideas and contemplating on them and do not focus enough to get through with them to convert them into value. And I know Ideas do not have any value unless they get used.

Lately I have been thinking about this and I thought instead of keeping the ideas to myself in hope that I will get time and focus to implement them why don't I put those Ideas on the web to the public.

This got me thinking....

However, some part of me does not want to let go of the ideas, I see business potentials in many of the these ideas and being a normal person, I wish I could get some benefit out of it. However, I know that stinginess …