Monday, 16 September 2013

برداشت تم نہیں کرنا



برداشت تم نہیں کرنا
برداشت تم نہیں کرنا
کوئی گولی کہیں سے گر
آکر جب تمھارے گھر
میں کسی کو لگ جائے
جان لے ، ارمان لے
برداشت تم نہیں کرنا
کوئی بم کا دھماکہ
کسی ٹائمر سے ہو
یا کسی انسان کے
 سینے سے بندھا ہو وہ
برداشت تم نہیں کرنا
سازشی سیاسی ہوں
مکار کاروباری ہوں
دولت مند وڈیرے ہوں
یا گلی کے غنڈے ہوں
برداشت تم نہں کرنا
رینجر کا ڈنڈا ہو
کیپٹن کی گولی ہو
ڈرون ہو امریکہ کا
سر پہ جو تمھارے ہو
برداشت تم نہیں کرنا
ملّا ہوں جو پیسے کے
ڈالر کے روپیئے کے
یا ریال لیتے ہوں
چاہے وہ کہیں کے ہوں
برداشت تم نہیں کرنا
خبریں جو چلاتے ہیں
تبصرے بھی کرتے ہیں
گر تم سمجھتے ہو
نوٹنکی کے پرزے ہیں
برداشت تم نہیں کرنا
کاروبار میں دھوکہ ہو
ملازمت میں استحصال
کسی غنڈے کی بدمعاشی
پولس والے کی بدمعاشی
برداشت تم نہیں کرنا
چھوٹے بھی جو مسئلے ہیں
بجلی جو چلی جائے
سی این جی کی بندش ہو
پانی جو نہیں آئے
برداشت تم نہیں کرنا
ٹریفک میں ہو بدمعاشی
چاہے ہو وہ کم عقلی
خلاف ورزی اشارے کی
چاہے ہو سڑٰک ٹوٹی
برداشت تم نہیں کرنا
کیونکہ
کوئی جو مسائل ہوں
برداشت گر جو کرجانا
بچوں کے لیئے اپنے
چھوڑ پریشانی جانا
برداشت تم نہیں کرنا
ہاں مگر
پریشاں بھی نہیں ہونا
اگرچہ
مسائل ڈھیر سارے ہیں
پریشانی کا منبہ ہیں
کیسے ہی یہ ممکن ہو
برداشت بھی نہیں کرنا
پریشاں بھی نہیں ہونا
اگر
ایک مسئلہ کو بھی
کم ہم گر کرجائیں
دنیا کو جو بہتر ہم
کرسکیں تو کرجائیں
مگر
ہاں مگر کوئی مسئلہ
جو ہماری قدرت سے
باہر ہو تو بہتر ہے
صبر ہم کو کرنا ہے
ضرور تم صبر کرنا
پریشاں بھی نہیں ہونا
برداشت پر نہیں کرنا
کبھی قبول نہ کرنا
کبھی قبول نہ کرنا

سفؔر
۱۶ ستمبر ۲۰۱۳
۴ مئی ۲۰۱۶

No comments:

Post a Comment