Friday, 17 August 2012

شترِ بے مہار


مجھے ایک مشہورسماجی شخصیت (جن کا نام سلمان صاحب فرض کر لیتے ہیں) نے گلشنِ اقبال جیلانی اسٹیشن کے قریب سے ایک نئی چمچماتی کار میں پِک کیا۔ باہر کی گرمی کے مقابلے میں اندرایئرکنڈیشنر نے کافی ٹھنڈک کی ہوئی تھی۔ ان کے ساتھ ایک اورمشہور اور سماجی سخصیت بھی تھیں (جن کا نام نازیہ صاحبہ فرض کیئے لیتے ہیں)۔ ہم لوگ کار میں معاشرے کی بہتری پر بات کرتے رہے۔

ایک چکر ملیر کے قریب سے لینے کے بعد ہم پھر گلشن کی طرف واپس آگئے۔ گلشن کی ایک گلی میں سے موڑ کاٹتے ہوے ہمیں ایک گھر کے سامنےایک کافی مہنگی کار کھڑی نظر آئی جس کو دیکھتے ہی سلمان صاحب ایک کڑوے لہجے میں بولے کہ ایک یہ لوگ ہیں اور دوسرے معاشرے میں وہ لوگ ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں، نازیہ صاحبہ بھی اثبات میں  سر ہلانے لگیں۔ مجھے اس بات پر تھوڑا غصّہ آگیا، میں نے چنچناتے ہوئے، جو کہ میری عادت ہے، کہا کہ آپ خود عوام میں سے نہیں ہیں، آپ لوگ بھی معاشرے کے اسی طبقہ میں سے ہیں جو کے مہنگی کاروں میں سفر کرتا ہے۔  یہ تو میں ہوں جو کہ دوسرے طبقے سے ہوں، اگر آپ کو   کبھی بسوں میں سفر کرنا پڑ جائے تب پتا چلے گا۔ اور یہ کہتے ہوئے میں نے چپس کی تھیلی میں ہاتھ ڈالا، ہم راستے میں چپس سےبھی مستفید ہو رہے تھے۔
  مجھے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوگیا جس پر میں نےاپنی تصحیح کرتے ہوئے اور لہجے کو نارمل کرتےہوئے کہا کہ شاید میں بھی اس طبقے میں سے نہیں ہوں۔ ہاں کبھی کبھار مجھے بس میں بیٹھنا پڑجاتا ہے مگر میں عمومی طور پر چھوٹی سہی اپنی کار میں سفر کرتا ہوں۔ سلمان صاحب اور نازیہ صاحبہ دونوں خاموش رہے۔
اتنی دیر میں ہم واپس اسی جگہ پہنچ گئے جہاں سے  سلمان ساحب نے مجھے بٹھایا تھا ، یہ سمجھتے ہوئے کہ میں وہیں کہیں رہتا ہوں سلمان صاحب نے کار آہستہ کی، میں نےان کی معلومات میں اضافہ کیا کہ میں تو ملیر میں رہتا ہوں، کیا بہتر ہوتا کہ میں وہیں اتر جاتا۔ سلمان صاحب کے مجھے ملیر تک لے جانے کی آفر کے باوجود میں وہیں اتر گیا۔ چپس کے تھیلی میرے ہاتھ میں ہی رہ گئی تھی۔
 مجھے سڑک کے دوسری طرف جانا تھا، مگر یونیورسٹی روڈ کے سگنل فری ہونے کے بعد سڑک کے درمیان میں گِرِلز لگ گئیں تھیں۔ تھوڑی دور اوور ہیڈ برج بنا تھا، مگر میں ایک کافی ٹھنڈی گاڑی سے اترنے کے بعد چلچلاتی دھوپ میں اس برج تک جانے اور واپس آنے کی لیئے تیار نھیں تھا۔ ایک جگہ سے ایک سلاخ کسی بھلے مانس نے نکالی ہوئی تھی، میں نے اسی جگہ سے گرل پھاندنے کا ارادہ کیا۔ ٹریفک کافی تیز تھا اور اس میں وقفہ بھی نھیں آرہا تھا اور آتا بھی کیسے، سڑک پر کہیں سگنل ہوتے تب ہی تو ٹریفک میں وقفہ آتا۔
خیر اتنی دیر میں ٹریفک تھوڑا کم ہوا، صرف ایک گاڑی آرہی تھی جو کہ تیز ہونے کے باوجود نسبتاً آہستہ تھی اس کے پیچھے کئی گاڑیاں کافی تیز آرہی تھیں، میں نے اس گاڑی سے پہلے بھاگ کرتیزی سے سڑک پار کرنے کا ارادہ کیا، اور فوراً ہی فٹ پاتھ سے سڑک پر چھلانگ لگادی۔ مگر یہ کیا، یہ کمبخت فٹ پاتھ عمومی فٹ پاتھوں کے مقابلے میں کافی اونچا تھا،میرے پائوں لڑکھڑا گئے ، میں نے اپنے پائوں سنبھالنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں سکا اور  اس گاڑی کے سامنے ہی سڑک پر زمین بوس ہو گیا۔ اسکے بعد کیا ہوا یہ مجھے معلوم نہیں ہوسکا ہاں مگر مجھے اپنے ہاتھ میں چپس کی تھیلی کی موجودگی کا احساس تھا۔

No comments:

Post a Comment