جب بھی کہ دنیا سے مری رخصت قرین ہو

 جب بھی کہ دنیا سے مری رخصت قرین ہو

میرا ہو وقت تو جھکی میری جبین ہو


میری دعا ہے جو بھی عبادت نہیں ہوئی

میں ہوں مری ہی ذات جو میرا یقین ہو


سجدے کریں اگر مری طینت کی تربیت

مائل مرا مزاج بہ خاکِ زمین ہو


میرے ہی ذہن میں ہو جو دنیا کے واسطے

میرے ہی قلب میں ہو جو تو اک مکین ہو 


تم تو سفرؔ ذرا سا ارادہ کیا کرو

 کمزور جب ہو اتنے کہ بالکل مہین ہو


سفرؔ

Comments

Popular posts from this blog

نئی ٹیکسی

ارتقاء