حسین کے سفر کا راستہ
حسین کے مزاج کا معاملہ ہی اور ہے
ان کے سفر کا راستہ بھی قابلِ غور ہے
یوں چلے کہ حرمتِ شہرِ نبی باقی رہے
پھر ایسے کہ عظمتِ دارِ وحی باقی رہے
ایک منظر جو انہیں ہر طور نامنظور تھا
وہ لعین بادشاہ کے ہاتھ پہ بیعت کا تھا
جو بات وہ ہرگز نہیں کرتے کبھی یہ ہی قبول
حق باطل پہ جھکے، یہ نہ تھا ان کا اصول
کوفیوں نے خط لکھے، امام کو مدعو کیا
جانبِ کوفہ چلے، کہ وہیں کا قصد تھا
حق ہی امام کا نہیں، اک ذمہ داری تھی یہی
رہ نمائی وہ کریں گر ہو جو ان کی پیروی
امرِ خدا کی سب کو ہی تعلیم وہ دیتے رہیں
بچنے کی بد سے بھی انہیں تلقین وہ کرتے رہیں
کوفہ ساتھ ان کے نہیں، جب یہ حقیقت کھل گئی
پھر تو ان کی راہ بالکل اور ہی جانب ہوگئی
نہ تو واپس راستہ حر نے لینے ہی دیا
آگے کا ہی تھا جو سفر نگاہ میں مرکوز تھا
کربلا، کوفہ سے آگے کی جگہ ان کو ملی
قدرِ خدا کے فیصلے میں رضا ان کی بھی تھی
اشقیا کو بارہا ہر طور سمجھایا گیا
امام نے کر ہی دیا اتمامِ حجّتِ خدا
ابنِ سعد کے سامنے شہ نے رستے بھی رکھے
تاکہ کسی بھی طور سے فوجِ لعین بچ سکے
کہتے ہیں کہ مدینے کو لوٹنے کی بات تھی
یا کسی حد کی طرف جو کہیں کی راہ تھی
امام نے تھا یہ کہا جانے دیا جائے ہمیں
دنیا کی جو ہیں وسعتیں ان میں سفر کرتے رہیں
دنیا میں ہے اسلام کا دائرہ جو طے کریں
لوگوں کے جو احوال ہیں ان پہ گواہ بن کر رہیں
ابنِ سعد کو تھی خبر عبیداللہ کے ظلم کی
رے کی حکومت کی تمنا بھی اسے درکار تھی
ابنِ زیاد اور یزید دین کے دشمن رہے
تخت و حکومت کے لیے دونوں اہرمن رہے
اسلام سے تھی دشمنی کوئی شقی نہ بچ سکا
قتلِ حسین کے لیے ہر ایک بڑھتا ہی گیا
توبہ کا تھا جو راستہ ہر وقت ہی موجود تھا
حر نے جنت کا سفر ایک دن میں کرلیا
اکبر نے اذاں کے ساتھ جو صدا دی اضطراب سے
عباس کے بازو کٹے روکے گئے وہ آب سے
قاسم و عون و محمد بھی تھے نوبہار سے
کم سنی میں وہ بھی تو مارے گئے تلوار سے
اصغر ننھے سے ہی تھے، جیتے تھے آب و شیر سے
وہ بھی نہ بخشے گئے تھے حرملہ کے تیر سے
جو بہتّر لوگ تھے پیاسے ہی مارے گئے
جو نواسے تھے نبی کے اللہ پہ وارے گئے
خیمۂ سادات بھی شعلوں سے جلائے گئے
باقی جو اہلِ بیت تھے اسیر وہ کیے گئے
کیا کسی جنگ کے لیے ایسے کوئی نکلا کبھی
عورتوں بچوں کو اپنے ساتھ کیا لایا کوئی
جنگ کے لیے نہ تھی امام کی کوئی سعی
اقتدار کی طرف تو راہ وہ ہرگز نہ تھی
محفوظ شہ کر جو گئے اسلام کی بنیاد تھی
کہ رضاً بقضائہٖ اور تسلیماً بامرہٖ
Comments
Post a Comment