Tuesday, 24 July 2018

نئی ٹیکسی

 ابا کا ایک دوست ہے، مقصود۔ ہماری ہی گلی میں ہی رہتا ہے-  اسکے پاس ایک پرانی سوزوکی ٹیکسی ہے ۔ ابا ویسے تو  بس میں آتا جاتا ہے مگر جب کبھی اماں اور ہم سب کو کہیں لے کے جانا ہو تو مقصود کو ہی کہتا ہے کہ لے چل۔ چونکہ مقصود ابا کا دوست بھی ہے اور اسکے ساتھ تاش بھی کھیلتا ہے، اس لیئے ابا کو کرایہ میں کچھ رعایت دے دیتا ہے۔

مجھے مقصود بالکل بھی اچھا نہیں لگتا، گھور گھور کر دیکھتا رہتا ہے، جب ابا سامنے نہ ہو تو کہتا ہے مجھ سے شادی کرے گا، ویسے تو ابا اس معاملے میں کافی ٹھیک ہے مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں مقصود ابا کو پٹا ہی نہ لے۔ 

 ایک دفعہ میں اسکول سے گھر آرہی تھی کہ دو اوباش لڑکوں نے مجھے دیکھ کر پہلے تو آوازے کسنا شروع کیئے مگر پھر میرا پیچھا شروع کردیا ۔ میں تیز تیز قدموں سے جلدی گھر آجانے کی دعا کرتی تقریبا بھاگنا شروع ہوگئی کہ مجھے مقصود   کی ٹیکسی نظر آگئی۔ وہ سڑک کے کنارے ٹیکسی کھڑی کرکے سواری مل جانے کا انتظار کررہا تھا۔ میں نے آو دیکھا نہ تاو اور جلدی سے دروازہ کھول کر اسکی ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور مقصود سے کہا کہ دو لڑکے میرا پیچھا کررہے ہیں تو مجھے گھرپر اتاردو۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا پھر کچھ کہے بغیر ٹیکسی چلادی۔ وہ دونوں لڑکے پیچھے رہ گئے۔

اس دن تو مقصود نے مجھ سے کچھ نہیں کہا مگر اس کے بعد جب موقع ملتا مجھے یہ باور کراتا کہ اس نے مجھے ان  اوباشوں سے بچایا ہے اور مجھ سے کہتا کہ مجھے اس کے ساتھ سیر پر چلنا چاہئیےاور مجھے اسکے ساتھ شادی کرنی چاہئیے۔

 میں کیا کرتی، میں نے گھرسے نکلنا کم کردیا ۔ بس اسکول جاتی اور اسکول سے گھر۔ میں  نے بشرہ (اپنی سہیلی)  سے کہہ دیا تھا کہ اسکول ساتھ چلتے ہیں، میرا گھرا اسکے گھر اور اسکول کے رستے میں پڑتا تھا۔ وہ مجھے صبح گھر آکر ساتھ لے لیتی تھی اور واپسی میں بھی میں اسکے ساتھ آجاتی تھی۔

وہ سال تو آرام سے گزر گیا مگر اب سیکنڈ ائیر میں مجھے حساب میں مشکل شروع ہو گئی تھی، بشرہ ایک ٹیچر کا ذکر کررہی تھی کہ وہ حساب کی ٹیوشن پڑہاتی ہیں، مگر دوسرے محلے میں رہتی ہیں۔ میں نے اماں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اکیلے کیسے آو جاوگی۔ اماں نے ابا سے ذکر کیا تواس نے پہلے تو منع کردیا مگر اگلے دن اعلان کردیا کہ اس نے حل ڈھونڈ لیا ہے،  مقصود کے ساتھ اسکی ٹیکسی میں ٹیوشن پڑھنے جاوگی۔ میں بھی تمھارے ساتھ ہونگا۔ اب میر ی تو جان ہی نکل گئی، کچھ کہہ ہی نہیں پائی۔ بس دبے لفظوں میں کہا کہ ابا اسکی ٹیکسی بہت پرانی ہے کھڑڑ کھڑڑ کرتی ہے، اور پھر راستے میں سڑک بھی خراب ہے، مجھے  بہت مشکل ہوگی۔ مگر ابا نے کچھ نہیں سنی۔

اب میں اور ابا روزانہ اسکی ٹیکسی میں ٹیوشن پڑھنے جاتے، جب تک میں ٹیوشن پڑھتی وہ اور ابا چائے کے ٹھیے پر چائے پیتے۔ مقصود سارا رستہ جاتے اور سارا رستہ آتے آئینے میں مجھے گھورتا رہتا۔

 میں نے بھی ابا سے ٹیکسی کی روزانہ شکایت کرنا شروع کردی۔ کبھی کہ ابا یہ ٹیکسی بہت پرانی ہیں، کبھی کہ ابا بہت  جھٹکے لگتے ہیں، ابا کوئی نئی ٹیکسی دیکھ دو نا۔ جب بھی ٹیوشن کا ٹائم ہوتا تو کہتی کہ اف فوہ  پھر وہی پرانی ٹیکسی۔ ابا  جھنجلاتا تو بہت تھا مگر  کچھ کرتا نہیں تھا۔  ایک دن ٹیکسی راستے میں خراب ہوگئی میری ٹیوشن کا ٹائم نکل گیا۔ اس پر میں نے ابا کو بہت سنائی کہ ابا کب تک وہی پرانی ٹیکسی میں لےجاتے رہو گے۔ تم خود ایک ٹیکسی کیوں نہیں لے لیتے اب تو بینک سے لون پر مل جاتی ہے۔ مگر ابا کے کان بر جوں بھی نہیں رینگی۔

  آج پتا نہیں کیوں ابا بہت پرجوش  تھا ۔ بار بار کہہ رہا تھا کہ  نئی بات ہے۔ دیکھو گی تو خوش ہوجاو گی۔ آج تمہارا مسئلہ حل کردیا ۔ ٹیوشن کے ٹائم پر جب ہم گھر سے نکلے تو باہر ایک نئی ٹم ٹماتی ٹیکسی کھڑی تھی اور اس میں ڈرائیور سیٹ پر مقصود بیٹھا دانت نکال رہا تھا۔ بس ٹیکسی میں بیٹھتے ہوئے مجھے ابا کا نعرہ سنائی دیا کہ تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آگئی ہے۔





No comments:

Post a Comment