Posts

عقلِ دانا کو مات کرتا ہے

عقلِ دانا کو مات کرتا ہے
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

کوششیں  کر، کہ چاہے ہوں کیسی
دیکھ کہ، سعیٔ صفا کیا ہے

جب بھی چاہا نگاہیں  پھیرلیں
یہ محبت ہے؟ پھر جفا کیا ہے

دیکھنا کیا، ہے اسکی سوچ محال
چھوڑ یہ بات کہ خدا کیا ہے

دل تو دل یاں روبرؤ تو
عقل بھی گم، مجھے ہوا کیا ہے

ہم سفر ہو سفر میں ہم خوش ہیں
گرمی…

میں بھی رو سکتا ہوں

میں بھی رو سکتا ہوں
میں بھی شاعر ہوں

زندگی کی تڑپتی ہوئی حقیقتیں
سسکتے ہوۓ لمحات

میرے بھی کمزور سے دل پر
گہرے نشانات چھوڑ جاتے ہیں

اقوام کی، طبقات کی، افراد کی جنگیں
میری بھی روح کو تڑپاتی ہیں

تچھ پہ ہوتے ہوۓ پے درپہ یہ سنگین مظالم
میں اپنے آپ پر محسوس کرتا ہوں

میں بھی شاعر ہوں

پر میرا اس طرح رون…

دن کی روشنی میں ہم دیکھ نہیں سکتے بدر

میں عقل کی روشنی میں آنہیں سکتا نظر
دن میں جو جاہیں بھی تو ہم دیکھ نہیں سکتے بدر

کہ صحرا میں دیر تک راستہ نہیں ہوتا

بہت مشکل ہے جرأتِ مجنوں کو دہرانا
کہ صحرا میں دیر تک راستہ نہیں ہوتا

ہے پسند اک بات ہم کو دشتِ ویراں کی
کہ صحرا میں دیر تک راستہ نہیں ہوتا

پیرویٔ رہنما میں رہنما کے ساتھ چل
کہ صحرا میں دیر تک راستہ نہیں ہوتا

روزِ محشر میرے ان اشکوں کی قیمت دیکھنا

روزِ محشر میرے ان اشکوں کی قیمت دیکھنا
روکتے ہیں جو مجھے ان کی حزیمت دیکھنا

میرے اشکوں کی روانی میں ملا اتنا یقیں
بر مقابل زہدِ شک تم ان کی قیمت دیکھنا

دیکھنا ہو تو موسیٰ کے ہی عصیٰ کو دیکھنا
پیرؤ فرعون کی جادوگری مت دیکھنا

حافظِ اسلام کا اپنی جگہ نہ چھوڑنا
بندۂ اسلام کا مالِ غنیمت دیکھنا

مولا تیر…

یہ کیا تھا عہد ہم نے بھول جانا ہے اسے

یہ کیا تھا عہد ہم نے بھول جانا ہے اسے
اب پریشاں بیٹھے ہیں اس سوچ میں "کیسا تھا وہ"

تمثیل کیابتلائیں ہم آپ کو اس شخص کی
اور کیا کہیں بس یہ کہ خود جیسا تھا وہ

خرچ کرڈالا وطن میں سب نے اس غریب کو
آدمی جیسے نہیں تھا جیسے بس پیسا تھا وہ

ہیوسٹن
؁۲۰۰۲

زندگی تیرے لیئے کیا کیا کِیا ، کیا نہ کِیا

زندگی تیرے لیئے کیا کیا کِیا ، کیا نہ کِیا
حسرتا تیرے لیئے کیا کیا کِیا ، کیا نہ کِیا

تم سے تھا وعدہ ہمارا بھول جائیں گے تمہیں
ہم نے کرنا تھا وفا وعدہ کِیا ، کیا نہ کِیا

ہیوسٹن
۲۰۰۳

Popular posts from this blog

نئی ٹیکسی

ارتقاء