Sunday, 2 February 2014

عقلِ دانا کو مات کرتا ہے

عقلِ دانا کو مات کرتا ہے
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

کوششیں  کر، کہ چاہے ہوں کیسی
دیکھ کہ، سعیٔ صفا کیا ہے

جب بھی چاہا نگاہیں  پھیری ہیں
یہ اندازِ حب، پھر جفا کیا ہے

دیکھنا کیا، ہے اسکی سوچ محال
چھوڑ یہ بات کہ خدا کیا ہے

دل تو دل یاں روبرؤ تو
عقل بھی گم، مجھے ہوا کیا ہے

ہم سفر ہو سفر میں ہم خوش ہیں
گرمی و سردی و ہوا کیا ہے

حسن یہ اور یہ کوششیں بھرپور
آپ کہیے کہ مدعا کیا ہے

خوب گہرایٔ  ہے اے چشمِ حسیں
ڈوب ہی جاؤں تیرنا کیا ہے

کھا چکے ہم غیر کی دعوت بہت
دیکھیں کہ گھر میں اب پکا کیا ہے

آپ کرتے ہیں اسکی تعریفیں
کچھ سفرؔ نے ابھی کہا کیا ہے

No comments:

Post a Comment